Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا نادرن بائی پاس پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے شاہ عبداللطیف بھٹائی قبرستان کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کی-  
     
  05-Dec-2018  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ شہریوں کی اہم ترین ضرورت قبرستانوں کی کمی کوپورا کرنے کے لئے 28 سال بعد نئے قبرستانوں کی تعمیر اور پرانے قبرستانوں کی توسیع کرکے مجموعی طور پر 55 ہزار سے زیادہ قبروں کی گنجائش نکالی گئی ہے جس پر 60 ملین روپے لاگت کا تخمینہ ہے ان منصوبوں کے بعد 10 سال کی ضروریات پوری ہوں گی، ماڈل قبرستان میں بچوں کے لئے علیحدہ بلاک مختص کیا گیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سرجانی ٹائون سیکٹر16-A ، نادرن بائی پاس پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے شاہ عبداللطیف بھٹائی قبرستان کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ 28 سال قبل بلدیہ عظمیٰ کراچی نے مواچھ گوٹھ کے قریب قبرستان کی زمین حاصل کرکے برادریوں میں تقسیم کی تھی آج شہر کے تمام قبرستانوں میں گنجائش ختم ہوچکی ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا تھا اس دشواری کو محسوس کرتے ہوئے ہم نے 2 نئے قبرستان تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں 50 ہزار قبروں کی گنجائش نکالی گئی ہے جبکہ پرانے قبرستانوں کی توسیع کے بعد5 ہزار قبروں کی مزید گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ سرجانی ٹائون سیکٹر16-A میں 10 ایکڑ رقبہ پر جدید اور ماڈل قبرستان تعمیر کیا گیا ہے جہاں پندرہ ہزار (15000)قبروں کی گنجائش ہوگی جبکہ عظیم پورہ قبرستان کی زمین کو قابضین سے خالی کراکر مزیدپانچ ہزار (5000)قبروں کی گنجائش نکالی گئی ہے، مستقبل قریب میں پینتیس ہزار (35000) قبروں کی گنجائش کا ایک قبرستان سپر ہائی وے لنک روڈ پر بھی تعمیر ہوگا، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ شہر میں قبرستانوں کی کمی ہوگئی ہے اور یہ بہت بڑی ضرورت ہے ، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے 28 سال پہلے مواچھ گوٹھ میں قبرستان کے لئے زمین حاصل کرکے مختلف برادریوں میں تقسیم کی گئی تھی جبکہ 28 سال اس ضروریات کا خیال نہیں رکھا گیا اور آج شہر کے قبرستان بھرچکے اور ان میں تدفین کی گنجائش ختم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ آج ماڈل قبرستان کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے جس کا فیزI- مکمل ہوچکا جس میں چاردیواری، واٹر ٹینک، دروازے اور بھرائی وغیرہ شامل ہے ہم صرف زمین پر سنگ بنیاد نہیں رکھ رہے بلکہ ایک فیز کو مکمل کرلیا اور دوسرے فیز پر کام جاری ہے جس میں بلاک کی سطح پر ترقیاتی کام ہو رہے ہیں ، بلاک ایک میں تین ہزار (3000) قبروں کی گنجائش نکالی جارہی ہے جس میں برساتی پانی کی نکاسی کی نالیاں تعمیر ہوں گی، اندرونی روڈ اور فٹ پاتھ، دفتر ،نماز کی جگہ اور قبروں کی نمبرنگ اور کرب بلاک کی تنصیب جون 2019ء سے قبل مکمل کرلی جائے گی۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ قبرستانوں کی مرمت اور دیکھ بھال و توسیع پر بھی کام جاری ہے، عظیم پورہ قبرستان اور شاہ فیصل کی زمین کو قابضین سے خالی کراکر توسیع کی گئی ہے جس میں پانچ ہزار (5000) قبروں کی گنجائش نکالی گئی ہے، محمد شاہ قبرستان میں سیوریج کی لائن ڈالی گئی ہے جبکہ 6 مختلف قبرستانوں کی ترقی و توسیع پر جلد کام شروع کردیا جائے گا جن میں سلیم آباد قبرستان اورنگی ٹائون ، تھورانی گوٹھ قبرستان اورنگی ٹائون ، النور انڈسٹریل ایریا قبرستان، یاسین آباد قبرستان، سخی حسن قبرستان، محمد شاہ قبرستان نارتھ کراچی شامل ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ مستقبل قریب میں سپر ہائی وے لنک روڈ پر 22 ایکڑ رقبہ پر ایک اور قبرستان تعمیر ہوگا جہاں پینتیس ہزار (35000) قبروں کی گنجائش ہوگی مجموعی طور پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نئے و پرانے قبرستانوں کی تعمیر، ترقی و توسیع پر 60 ملین روپے خرچ کررہی ہے جس پر 55 ہزار قبروں کی نئی جگہ دستیاب ہوگی۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard