Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ تاریخی عمارات کے تحفظ کے لئے سخت ترین قوانین بننا چاہئیں تاکہ کسی میں اتنی ہمت نہ ہو کہ انہیں مسمار کرسکے-  
     
  06-Nov-2018  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ تاریخی عمارات کے تحفظ کے لئے سخت ترین قوانین بننا چاہئیں تاکہ کسی میں اتنی ہمت نہ ہو کہ انہیں مسمار کرسکے، اگر تاریخی ورثے کو محفوظ نہ کیا تو ہم مٹ جائیں گے، ہماری نشانیاں باقی نہیں رہیں گی، صوبائی اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تاریخی عمارتوںکو تباہی سے بچائیں، تاریخی اہمیت کی حامل عمارتیں در حقیقت کراچی کے عظیم نوادرات ہیں جنہیں بچانا ضروری ہے، خالق دینا ہال کی بحالی کے لئے دو کروڑ روپے مختص کردیئے ہیں، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی دیگر تاریخی عمارتوں کو بھی اصل شکل میں بحال کریں گے، ان خیالات کا اظہار انہو ںنے منگل کے روز خالق دینا ہال میں کے ایم سی اور این ای ڈی یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ سیمینار بعنوان ’’ آرکیٹیکچرل جیمز آف کراچی‘‘ کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پرسیکریٹری کلچر ،ٹورازم ، اینٹیک ڈپارٹمنٹ، حکومت سندھ غلام اکبر لغاری، سابق سیکریٹری حکومت سندھ و ممبرایڈوائزری کمیٹی ہیری ٹیج ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری ، چیئر پرسن شعبہ آرکیٹیکچر اینڈ پلاننگ این ای ڈی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر انیلہ نعیم، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین، چیئرمین فنانس کمیٹی ندیم ہدایت ہاشمی، سینئرڈائریکٹر کلچر اینڈ اسپورٹس محمد ریحان خان اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی وسیم اختر نے سیمینار کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی نسل اور خاص طور پر نوجوان طالب علموں کو اپنے تاریخی و ثقافتی ورثے کی معلومات اور اہمیت سے آگاہ کرنا ضروری ہے کیونکہ یہی لوگ آگے چل کر اس ورثے کی حفاظت کا بیڑہ اٹھائیں گے، انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے تاریخی ورثے کے ساتھ ہم نے نہایت بے دردی کا سلوک کیا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کی بھر پور حفاظت یقینی بنائی گئی ہے یہ ہماری ماضی کی غلطیاں ہیں کہ ہم اپنے تاریخی وثقافتی ورثے کی اہمیت کو اجاگر نہ کرسکے تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ہم عوام الناس میں اس حوالے سے شعور اور احساس بیدار کریں، ایک مستحکم قوم بننے کے لئے ہمیں اپنے عظیم تاریخی ورثے کو محفوظ بنانا ہوگا، انہوں نے کہا کہ میئرکا چارج سنبھالنے کے بعد کے ایم سی کی تاریخی عمارت کو بہت بری حالت میں پایا اس کا تاریخی کلاک ٹاوربند پڑا تھا جسے ہم نے ٹھیک کرایا، انہوںنے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تاریخی ورثے کے تحفظ پر مامور اداروں نے کلفٹن میں تاریخی کوٹھاری پریڈ کے بعض حصوں کو مسمار ہونے سے بچانے کی کوشش نہیں کی اور اب ہم جلد از جلد اسے اصل حالت میں لانے کی کوشش کررہے ہیں، انہوںنے کہا کہ ہمیں تاریخی عمارتوں کے استعمال میں بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے لوگوں کو صفائی ستھرائی کی طرف راغب کرنا ہوگاتاکہ وہ وہاں گندگی پھیلانے سے گریز کریں، انہوں نے سیمینار کے منتظمین کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیابی کے لئے جو بھی ممکن ہوسکے گا کریں گے آ پ اس کام کو آگے بڑھائیں، بعدازاں میئر کراچی وسیم اختر نے سیمینار میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو شیلڈ دیں جبکہ این ای ڈی یونیوسٹی کی پروفیسر انیلہ نعیم نے میئر کراچی وسیم اختر کو جامعہ این ای ڈی کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی، قبل ازیں افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری کلچر ،ٹورازم ، حکومت سندھ غلام اکبر لغاری نے کہا کہ کراچی میں پاکستان کے کسی بھی دیگر شہر کے مقابلے زیادہ پرشکوہ اور شاندار تاریخی عمارتیں موجود ہیں تاہم کچھ مافیاز انہیں ختم کرنے کے درپے ہیں اور ان کی جگہ قیمتی جگہوں پر کمرشل پلازہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں، یہ عمارتیں کسی ایک محکمہ یا ادارے کی نہیں بلکہ یہ ہم سب کا ورثہ ہے اور اس شہر اور ملک میں بسنے والے تمام لوگوں کو مل کر اسے بچانا ہے، انہو ںنے اس بات کو افسوس ناک قرار دیا کہ 2007 میں ہیری ٹیج قرار دی گئی بعض عمارتیں اب وجود نہیں رکھتی اور اس کی وجہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی طرف سے انہیں گرانے کی این او سی جاری کرنا ہے تاہم سپریم آف پاکستان کے حالیہ تاریخی فیصلے کے بعد اب یہ آسان نہیں رہا کیونکہ اس کے لئے ہائی کورٹ سے اجازت لینا لازمی ہوگیا ہے، انہوں نے کہا کہ جن تاریخی عمارتوں پر قبضہ کرلیا گیا یا ان کے اندر اور باہر تجاوزات ہیں ان کے ہٹانے پر خصوصی توجہ دی جائے، این ای ڈی کی پروفیسر انیلہ نعیم نے سیمینار کے انعقاد پر میئر کراچی وسیم اختر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ این ای ڈی یونیورسٹی میں ہیری ٹیج سیل آف آرٹیکلچر اینڈ پلاننگ کے قیام کا مقصد تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کی حفاظت کے لئے تکنیکی تعاون مہیا کرنا ہے، اس سیمینار کے انعقاد سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی تاریخی عمارتوں کی بحالی کیلئے طویل مدتی تعاون کا راستہ ہموار ہوگا، سیمینار کے دوسرے سیشن میں سابق سیکریٹری ٹورازم ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے کراچی میں موجود تاریخی عمارتوں کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا انہوں نے بتایا کہ 1994 نے حکومت نے تاریخی ورثے کے تحفظ کا قانون منظور کیا جس کے بعد سے صوبہ سندھ میں قدیم تاریخی عمارتوں کو توڑنے سلسلہ بند ہوا، فریئر ہال کی عمارت 150 سال سے ہمار ے درمیان موجود ہے دیگر تاریخی عمارتوں کو بچانے کے لئے بھی جلد از جلد اقدامات ہونے چاہئیں۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard