Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی سے ضلعی میونسپل کارپوریشن ختم کی جائیں، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اپنا کام انجام نہیں دے سکتا وہ نا تجربہ کار ہے-  
     
  25-Aug-2018  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی سے ضلعی میونسپل کارپوریشن ختم کی جائیں، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ اپنا کام انجام نہیں دے سکتا وہ نا تجربہ کار ہے بورڈ کی جانب سے عید الاضحی پر خرچ کئے جانے والی رقم کا آڈٹ ہونا چاہئے ، سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈننس پر نظر ثانی کی جائے اور اس میں ضروری ترامیم کرکے کراچی کے شہریوں کے مفاد میں لایا جائے، کراچی کو آکٹرائے ضلع ٹیکس کی مد میں 12 ارب روپے ملنے چاہئیں ہمیں صرف 6 ارب روپے دیئے جاتے ہیں باقی کہاں جاتا ہے کسی کو نہیں معلوم، عید الاضحی کے موقع پر آلائشوں کے لئے کیا جانے والا آپریشن گزشتہ سالوں سے بہتر رہا ہے تمام منتخب یوسی چیئرمین اور بلدیاتی نمائندوں نے عیدالاضحی کے دنوں میں متحرک کردار ادا کیا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کے ایم سی بلڈنگ میں ایک پرہجوم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ضلع غربی کے چیئرمین اظہار احمد خان، ضلع وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی، ضلع کورنگی کے چیئرمین نیر رضا، ضلع شرقی کے چیئرمین معید انور، لینڈ کمیٹی کے چیئرمین ارشد حسن، لاء کمیٹی کے چیئرمین عارف خان ایڈووکیٹ، میڈیا مینجمنٹ کمیٹی کی چیئر پرسن صبحین غوری اور مختلف کمیٹیوں کے چیئرمین اور منتخب نمائندے بھی موجود تھے، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایس ایل جی اے 2013 کو بہتر بنانے کے لئے تمام پالیسی ساز ادارے ، وزیر اعلیٰ سندھ ، صوبائی وزیر بلدیات اور تمام اسٹیک ہولڈرز سنجیدگی کے ساتھ بیٹھیں تمام اداروں سے تجاویز لی جائیں اور اس میں ترامیم لا کر بلدیاتی اداروں کو ایک چھتری تلے لایا جائے، کے ایم سی کو سپریم باڈی بنایا جائے، سیاسی فائدے کے لئے آئین میں ترامیم کرنا اور بورڈ بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، انہو ںنے کہا کہ صرف کراچی اور حیدرآباد میں آلائشیں اٹھانے کے کام کو دیکھا گیا، لاڑکانہ، سہون، نواب شاہ، اور دیگر شہروں میں کیا ہوتا رہا کسی کو نہیں معلوم، جب تک متوازی نظام چلایا جائے گا کراچی سندھ میں بہتری لانا نہ ممکن ہے، کراچی انتظامی لحاظ سے بری طرح تقسیم ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ تقسیم در تقسیم ہے پوری دنیا میں شہروں کا مکمل انتظام اور انصرام میئر کے پاس ہوتا ہے لیکن کراچی کا دنیا کا وہ واحد شہر ہے کہ جہاں اسے مختلف حصوں میں تقسیم کرکے ایڈمنسٹریشن بھی الگ کردی گئی ہے جس کے باعث کراچی میں بھر پور طریقے سے کام کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن ہو کر رہ گیا ہے۔ گزشتہ ادوار میں عددی برتری کے باعث سندھ لوکل گورنمنٹ لوکل آرڈننس میں جو اختیارات جو میئر کراچی کے پاس تھے وہ بھی ایک ایک کرکے لے لئے گئے کہیں پروجیکٹ ڈائریکٹر بناکر وزیر اعلی سندھ خود سڑکیں اور پل بنارہے ہیں کہیں نالوں کو کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کیا جارہا ہے کہیں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بناکر کراچی کی صفائی ستھرائی کا انتظام انہیں دیا جارہا ہے۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کے آمدنی کے تمام محکموں کی لوٹ مار کی جاچکی ہے اور اس سے وہ محکمے دانستہ طور پر لے لئے جاتے ہیں جس سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو آمدنی متوقع ہو، وزیر بلدیات سندھ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مردم شماری کے مطابق کراچی میں 30 لاکھ گھرانے ہیں اور کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ ہے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اس مردم شماری کے مطابق جو پہلے ہی متنازع ہے اور ہماری پارٹی سمیت کئی دوسرے افراد بھی عدالتوں میں موجود ہیں، خود وزیر بلدیات بھی ان اعداد و شمار کو نہیں مانتے، ہر شخص اس بات کو جانتا ہے کہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور گھرانوں کی تعداد 30 نہیں بلکہ 60 لاکھ سے زیادہ ہے ، اس لحاظ سے جو کراچی میں جانور قربان کئے گئے وہ 10 لاکھ سے کہیں زیادہ ہیں،یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ لینڈ فل سائٹ پر10لاکھ آلائشیں لائی گئی لیکن اس بات کاتذکرہ بھی ضروری تھا کہ ضلع وسطی اور ضلع کورنگی نے آلائشوں کی تدفین کے لئے ٹائون کی سطح پر چار چار خندقیں کھودی تھیں جن میں ان ٹائون ہونے والی قربانیوں کی آلائشیں مدفون کی گئیں، ضلع وسطی میں 4 لاکھ37 ہزار جانور قربان کئے گئے اور ان میں سے ہزاروں کی تعداد میں ان آلائشوں کو ان خندقوں میں مدفون کیا گیا۔ میئر کراچی نے کہا کہ ضلع کورنگی اور وسطی میں ایک آلائش اٹھانے کا خرچہ 70 روپے ہے جبکہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے چاروں اضلاع میں بکرے کی ایک الائش اٹھانے پر 500 روپے اور گائے کی ایک آلائش اٹھانے پر 1300 روپے خرچ کئے ہیں، اس کا بین الاقوامی بین الاقوامی آڈٹ کمپنی سے آڈٹ کرانا چاہئے یہ کراچی کے شہریوں کا پیسہ ہے جو بے دریغ خرچ کیا جارہا ہے، کراچی میں ہونے والی مردم شماری میں کراچی کے ساتھ وہ ظلم کیا گیا جسے تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔کراچی ایک بین الاقوامی شہر ہے اس شہر کے ساتھ مردم شماری جیسا مذاق بند نہ کیا گیا اور ترقیاتی منصوبے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کے لئے بنائے گئے تو کراچی کی 40 فیصد آبادی کو بھی ان سے فوائد حاصل نہیں ہونگے، ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا اور کراچی کو اس کے وسائل حقیقی آبادی کی مناسبت سے دیئے جانے چاہیے تب ہی کراچی کے مسئلوں کو حل کیا جاسکے گا۔ جہاں تک بلدیہ عظمیٰ کراچی کا تعلق ہے جو کام ہمارے ذمہ تھے وہ ہم نے بحسن خوبی انجام دیئے ہیں اور بھر پور کوشش کی ہے کہ تمام اضلاع میں جہاں جہاں ہماری ضرورت پڑی ہم نے ان کی مدد کی بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے تمام اضلاع کو پانچ پانچ اسپرے کی گاڑیاں بمعہ ادویات اور ڈیزل کے تینوں دن فراہم کی گئیں جنہوں نے قربان گاہوں اور آلائشوں کے مقام پر اسپرے کا فریضہ انجام دیا۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کمپلین سینٹر 1339 پر مختلف اضلاع سے 309 کمپلین موصول ہوئی جنہیںڈسٹرکٹ کو بھیجا گیا اور حل کرایا گیا۔محکمہ سٹی وارڈن نے عید گاہوں، قربان گاہوں اور پبلک مقامات پر اپنے فرائض انجام دئیے اور صبح 8 بجے لے کر رات گئے تو شہر کے بہتر مفاد میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے، سٹی وارڈنز کی 15 مقامات پر ڈیوٹی لگائی گئی تھی جن میں اسپتال، تفریحی گاہیں، پبلک مقامات اور ٹریفک کے رش کے مقامات شامل تھے۔ عید کے دنوں میں دو مقامات پر آگ لگنے کے واقعات پیش آئے نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں دھاگہ بنانے والی فیکٹری میں آگ لگی اور عوامی مرکز میں واقع سپر اسٹور کے گودام میں آگ لگنے کے واقعات ہوئے جسے محکمہ فائر بریگیڈ نے محدود آلات اور وسائل کے باوجود انتہائی تندہی ، محنت اور جاں فشانی سے کام کرکے آگ پر قابو پالیا اور الحمداللہ ان دونوں واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔میں یہاں شاباش دیتا ہوں اپنے محکمہ فائر بریگیڈ کے افسران اور عملے کو کہ وہ اپنی جانوں پر کھیل کر دوسروں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے فعال کردار ادا کررہے ہیں۔ میں اپنے یوسی چیئرمین ، وائس چیئرمین، بلدیاتی پینل سمیت حق پرقت ذمہ داران اور پارلیمنٹرین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہو ںنے دن رات عوامی خدمت کیلئے وقف کیا اور ہمارے شانہ بشانہ کھڑے رہے، جس کی بدولت عید الاضحی پر آلائشوں کا آپریشن کامیابی سے مکمل کر پائیں، انہو ںنے کہا کہ لینڈ فل سائٹ کا فاصلہ بہت زیادہ تھا ٹریفک جام کی وجہ سے ٹائم لگا میری تجویز یہ ہے کہ ڈمپنگ پوائنٹ کو ضلع میں ہونا چاہئے جام چاکرو اور گوند پاس لینڈ فل سائٹ تک پہنچنے میں نہ صرف وقت زیادہ لگتا ہے بلکہ اخراجات بھی زیادہ آتے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے شہری کنفیوژن کا شکار تھے کہ وہ آلائشیں اٹھانے کے لئے کس ادارے سے رابطہ کریں، اس لئے متحرک انداز میں کام کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں اور دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح بلدیاتی اداروں کو اپنا کام کرنے دیا جائے، انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر بلدیات سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کا نوٹس لیں اور سیاسی فائدوں کے بجائے کراچی کے مسائل حل کریں، جب تک متوازی نظام اور انتظامیہ کام کرتی رہے گی مسئلے حل نہیں ہونگے، انہو ںنے کہا کہ اخبارات اور میڈیا بھی اب اداریہ اور مضامین لکھ رہے ہیں ٹاک شوز کئے جارہے ہیں یہ کام حکومت سندھ کا نہیں بلدیاتی اداروں کا ہے-  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard