Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ نے کہا ہے کہ کے ایم سی کو 30 بلین روپے کی کمی کا سامنا ہے ہم ایک بار پھر اختیارات کیلئے سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں-  
     
  02-Aug-2017  
     
   
     
  ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ نے کہا ہے کہ کے ایم سی کو 30 بلین روپے کی کمی کا سامنا ہے ، سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کرائے اور ہم ایک بار پھر اختیارات کیلئے سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں، مالیاتی نا انصافیوں، اختیارات پر قدغن، ناقص منصوبہ بندی اور بلدیاتی سہولیات کے فقدان کے باعث شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، کراچی کے لئے 20 سالہ ماسٹر پلان بنانے کی ضرورت ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے سیکریٹریٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اسلام آباد میں39 ویں او ایم جی بیچ کے 44 ویںسی ٹی پی کورس کے شرکاء کی کے ایم سی بلڈنگ آمد پر انہیں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے فرائض و اختیارات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کیا،اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ایس ٹی آئی اسلام آباد حسنین ایم سید، ڈائریکٹر ایس ٹی آئی آصف علی علوی اور ڈائریکٹر ٹیکنیکل محمد شکیب، ڈائریکٹر میڈیا مینجمنٹ کے ایم سی علی حسن ساجد سمیت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ایس ٹی آئی اسلام آباد کے سیکشن آفیسرز، او ایم جی آفیسرزکے علاوہ سینئر کے ایم سی افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبداللہ وہرہ نے کہا کہ ملک اور صوبے کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی کے ساتھ سندھ حکومت نے معاشی نا انصافی کی جس کے باعث یہ شہر کچی آبادی میں تبدیل ہوتا جارہا ہے،شہر کے مسائل وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے گئے اور ان کے حل کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی، کراچی کو پانی و بجلی کی عدم دستیابی فراہمی و نکاسی آب کے ناقص نظام اور صحت و صفائی کے شعبے کی تباہ حالی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے جس کے لئے شہر کے منتخب نمائندے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں لیکن کوئی سننے والا نہیں، اگر یہی صورتحال رہی آنے والے وقت میں 70 فیصد کراچی کا حصہ کچی آبادیوں پر مشتمل ہوگا،انہوں نے کہا کہ کراچی میں 250 عمارات کو مخدوش قرار دیا گیا ہے لیکن شہر کی کچی آبادیوں میں ہزاروں عمارتیں اس وقت مخدوش حالت میں ہیں جن کی وجہ سے وہاں رہائش پذیر افراد کی جانیں مسلسل خطرے میں ہیں لیکن دیگر مسائل کا طرح اس مسئلے کا بھی کوئی حل نہیں نکالا گیا اور ہمیشہ اسے نظر انداز کردیا گیا، انہوں نے کہاکہ کراچی کی مثال منی پاکستان جیسی ہے جہاں ہرزبان بولنے والے اور ہر کلچر کی نمائندگی کرنے والے آباد ہیں اور ان کے معاشی مفادات اس شہر سے وابستہ ہیں ، کراچی میں جتنے بھی لوگ بستے ہیں وہ ایک طویل عرصے سے شہر کو درپیش مختلف مسائل کے حل کے لئے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہی، کراچی کے مسائل کم ہونے کے بجائے بتدریج ان میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے جو انتہائی تشویش کی بات ہے، انہوں نے کہاکہ کراچی کی سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھ پر ہر روز مخیر حضرات 5 لاکھ افراد کو دو وقت کا کھانا مفت فراہم کرتے ہیںجبکہ 100 سے زیادہ فلاحی طبی ادارے شہریوں کو ایمبولینس اور علاج کی سہولت مہیا کررہے ہیں اگر کراچی کے مقامی مخیر حضرات ا س شہر کی ترقی پر توجہ نہ دیتے تو یہ شہر اب تک برباد ہوچکا ہوتا تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور پاکستان کے معاشی حب کو اس کی ضرورت کے مطابق فنڈز مہیا کئے جائیں جن سے رہائشی و صنعتی علاقوں کے مسائل حل ہوسکیں اور کراچی کے شہری ہمیشہ کی طرح ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کرسکیں، انہوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی ضلعی بلدیات کے تعاون اور اشتراک سے شہریوں کے مسائل حل کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہی ہے اور تمام منتخب بلدیاتی نمائندے اس حوالے سے سرگرم ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم سب مل کر اس شہر کو مسائل سے نجات دلانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard