Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  وزیر اعلیٰ سندھ پانی کے مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کے لئے اجلاس بلائیں اور ضرورت اقدامات کریں یہ بات کراچی پریس کلب میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی سٹی کونسل کی خواتین ممبران نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی  
     
  16-Jun-2017  
     
   
     
  قومی خزانے کو بھاری ریونیو دینے والا شہر کراچی پانی و سیوریج کے شدید مسائل سے دوچار ہے اگر اس مسئلے پر جلد قابو نہ پایا گیا تو امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے حکومت ہوش سے کام لے ، شہریوں کی بنیادی ضرورت پانی کی فراہمی و ترسیل اور تقسیم کے نظام کو منصفانہ بنائے، ہائیڈرینٹ اور ٹینکرز مافیا کو لگام دے ، وزیر اعلیٰ سندھ پانی کے مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کے لئے اجلاس بلائیں اور ضرورت اقدامات کریں یہ بات کراچی پریس کلب میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی سٹی کونسل کی خواتین ممبران نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، پریس کانفرنس میں سٹی کونسل ممبران مریم قریشی، ناہید فاطمہ، کرن فاروقی، شاہین شیردین، منگلا شرما، شاہانہ اشعر، شاہینہ سہیل اور عابدہ سلطانہ کے علاوہ منتخب خواتین ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی، خواتین ممبران نے کہا کہ کراچی کے لئے بنایا گیا فراہمی آب کا پروجیکٹ K-4 انتہائی سست روی کا شکار ہے ، K-4 اور S-3 دونوں پروجیکٹس کے لئے واٹر بورڈ عدالت کے سامنے کھڑا ہے حالانکہ سندھ حکومت کے پاس اتنے فنڈز ضرور ہیں کہ K-4 کا نصف سے زائد کام کرایا جاسکے مگر صورتحال یہ ہے کہ اگست 2016 ء میں کام کا آغاز ہونے کے باوجود ابھی تک K-4 پروجیکٹ پر 15 فیصد بھی کام نہیں ہوا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید K-4 کا پانی کراچی والوں کو دستیاب نہ ہوسکے اگر ایسا ہوا تو یہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ زبردست ناانصافی ہوگی ۔آج سے لاکھوں مسلمان شہر کی مختلف مساجد میں اعتکاف میں بیٹھنے کا آغاز کریں گے ہمارے گھروں کے ساتھ ساتھ مساجد میں بھی وضو کیلئے پانی نہیں ہے اور یہ مسلمان جو اعتکاف میں اللہ کی عبادت کیلئے جمع ہونگے وہ مساجد میں پانی نہ ہونے کے باعث کس طرح اپنا وقت گزاریں گے ؟کیا اس سوال کا جواب کسی کے پاس ہے۔کراچی شہر اس وقت پانی کے شدید بحران سے گزر رہا ہے ، پورا شہر اور پوری عوام مشکلات سے دو چار ہے ، ٹوٹی ہوئی سڑکیں ، ابلتے ہوئے گٹر، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، پانی اور بجلی کی عدم دستیابی اور شہر سے ناانصافی کی وجہ سے کراچی کا ہر شہری قرب میں مبتلاہے اور اس ساری صورتحال سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہیں ۔ ایک طرف عورتوں کو گھر کے کام کاج کرنے ہوتے ہیں، بچوں کو سنبھالنا ہوتاہے اور دوسری جانب پانی اور بجلی فراہم نہ کرکے انہیں شدید اذیت میں مبتلا کیا جا رہا ہے ، اس پر ستم یہ کہ ٹینکرز مافیا نے لوگوں کی زندگی مزید تنگ کردی ہے ، غریب لوگ پانی کے ٹینکرز نہیں خرید سکتے ۔رمضان المبارک کے مہینے میں پانی کی قلت میں جو اضافہ ہواہے وہ ناقابل بیان ہے بعض گھروں میں روزہ کھولنے کے لئے بھی پانی دستیاب نہیں ہے جس کے باعث شہری اور خصوصاً ہم خواتین انتہائی مشکل زندگی گزار رہی ہیں کیونکہ عورتوں کو ایک مخصوص بجٹ میں گھر چلانا ہوتا ہے اس لئے انہیں بجلی اور پانی نہ ہونے کے سبب دوہرے عذاب سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔ہم اس مہنگائی کے دور میں اپنا گھر چلائیں ، پانی خریدیں یا بجلی کی اوور بلنگ کے باعث گھر بھر کی کمائی کے الیکٹرک کے حوالے کریں ، متعدد بار وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی گئی کہ خدارا وہ شہر پر رحم کریں ۔ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پانی دستیاب ہی نہیں ہے محمود آباد ، منظور کالونی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں لوگ پانی کے ساتھ ساتھ سیوریج کے نظام کی تباہی کے عذاب میں بھی مبتلا ہیں وہا ںکی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہے نہ پانی ہے، نہ سیوریج کا کوئی سسٹم ہے اور نہ ہی ان بیچاری خواتین کو بجلی دستیاب ہے۔ کراچی کو یومیہ 1100 ملین گیلن کی پانی کی ضرورت ہے لیکن اسے بمشکل 420 ملین گیلن پانی ملتا ہے ، پانی کی چوری کے باعث شہر میں بحرانی صورتحال پیدا ہو رہی ہے ، کراچی کو فراہم کیا جانے والا پانی غیر ٹریٹمنٹ کے شہریوں تک پہنچتا ہے جو ان کی صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے ، کینجھر جھیل سے 585 ملین گیلن پانی کراچی کو سپلائی کیا جاتا ہے جس میں سے 70 ملین گیلن ذرعی مقاصد کے لئے چوری کرلیا جاتاہے اس کے علاوہ شہری علاقوں میں پہنچنے والا 30 فیصد پانی لائنوں میں رسائو کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کراچی کے شہری پانی کے لئے ترس رہے ہیں اور جو پانی دستیاب ہے اس پر ٹینکرز مافیا کا راج ہے ، واٹر بورڈ افسران کی ملی بھگت سے نہ صرف پانی چوری کیا جاتا ہے بلکہ کمرشل اداروں کو فروخت بھی کردیا جاتا ہے مگر آج ہم یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم کراچی کے پانی پر کسی کو بھی ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے ، ادارہ فراہمی و نکاسی آب اپنا قبلہ درست کرے اور کراچی میں پانی کی قلت کو دور کرکے اس مسئلے سے شہریوں کو نجات دلائی جائے ، ہمارا یہ مطالبہ بھی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کراچی کے لئے پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائیں کیونکہ ادارہ فراہمی و نکاسی آب حکومت سندھ کے ماتحت ہے لہٰذا وہ انہیں واضح احکامات جاری کریں کہ کراچی کی مختص پانی کی چوری کو روکا جائے اور کراچی کے شہریوں کو ان کا حق دیا جائے ۔وزیر اعلیٰ سندھ سے ہم یہ بھی درخواست کریں گے کہ دریائے سندھ سے کینجھر جھیل آنے والے پانی کا حصہ بڑھایا جائے تاکہ کراچی آنے والے پانی میں اضافہ ہو،گزشتہ دو دن پہلے میئر کراچی جب یوسف گوٹھ نارتھ کراچی پہنچے تو وہاں کے لوگ پانی نہ ہونے کے باعث بلک رہے تھے ، میئر کراچی اگلے روز پانی کے ٹینکرز لے کر ازخود وہاں پہنچے تاکہ کچھ ان کی دادرسی کی جاسکے ، بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں دو دو مہینے میں صرف ایک گھنٹے کے لئے پانی آتاہے ، ایسے میں وہاں کے لوگ کس طرح زندگی بسر کر رہے ہیں یہ آپ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں ۔خواتین ممبران نے کہا کہ کراچی میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث روز بروز سنگین ہوتی ہوئی صورتحال کی طرف توجہ دلانا بھی ہے جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے کہ شہر میں جاری طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ کی صورت میں کراچی کے شہریوں کے ساتھ سخت ناانصافی ہو رہی ہے جس سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہو رہا ہے ، لوڈشیڈنگ کا نشانہ صرف رہائشی علاقے ہی نہیں بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے ، شدید گرم موسم اور رمضان المبارک میں کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے کراچی کے شہریوں کو ذہنی و اعصابی بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے، کے الیکٹرک کی طرف سے مقررہ اوقات میں لوڈشیڈنگ کے علاوہ کیبل فالٹ اور پاور بریک ڈائون کی شکایات عام ہیں ، سونے پر سہاگہ، کراچی کے شہریوں کو بھاری بل بھیج کر اس کی ادائیگی پر مجبور کیا جاتا ہے اگر اس صورتحال کو ٹھیک کرنے کے لئے کوئی اقدامات نہ کئے گئے تو شہریوں میں پھیلنے والا اشتعال مزید سنگین صورت اختیار کرجائے گا جس سے امن و امان کی صورتحال کو خطرہ ہوسکتا ہے لہٰذا کراچی کے شہریوں کا یہ پرزور مطالبہ ہے کہ صوبے کے ارباب اختیار اس صورتحال کا نوٹس لیں اور وزیر اعلیٰ سندھ شہریوں کو شدید ذہنی اذیت سے نجات دلانے کے لئے اقدامات کریں ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی کو قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اس کے باوجود کراچی کے شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے ، سورج غروب ہوتے ہی پورا شہر اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے ، چوری چکاری اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں عام ہوچکی ہیں اور ہم سب انتہائی اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل منتخب خواتین ممبران مطالبہ کرتی ہیں کہ خدارا کراچی میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور بجلی کے بلوں میں زائد بلنگ کی روک تھام کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ کراچی کے تمام علاقوں میں پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کراچی کے شہری دوہری اذیت سے نکل سکیں ،وزیر اعلیٰ سندھ سے ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ کراچی پر اور اس کے شہریوں پر رحم کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں ، کراچی کو کے الیکٹرک کے چنگل سے نکالیں اور شہریوں کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard