Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  بلدیہ عظمی کراچی اور وفاقی حکومت کے اشتراک سے کلین کراچی مہم کا آغاز اتوار سے کر دیا گیا، وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی اور میئر کراچی وسیم اختر نے کے پی ٹی ہیڈ آفس میں ایک بڑے جلسہ عام میں اس کا افتتاح کیا-  
     
  04-Aug-2019  
     
   
     
  بلدیہ عظمی کراچی اور وفاقی حکومت کے اشتراک سے کلین کراچی مہم کا آغاز اتوار سے کر دیا گیا، وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی اور میئر کراچی وسیم اختر نے کے پی ٹی ہیڈ آفس میں ایک بڑے جلسہ عام میں اس کا افتتاح کیا اور اعلان کیا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ عید سے قبل بڑے نالے مکمل صاف ہوں۔ تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، ڈپٹی میئر کراچی سید ارشد حسن ،سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، کراچی سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، سماجی کارکنان ،سول سوسائٹی کے نمائندوں، کھلاڑیوں، فن کاروں اور بڑی میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران کراچی کے ٹیکسز کی رقم دبئی منتقل ہو گئی اس لئے کراچی اور سندھ میں یہ رقم زمین پر لگی ہوئی نظر نہیں آتی۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ صفائی تو روز کا مسئلہ ہے آپ شہر صاف کر کے چھوڑ دیں گے تو بعد میں کیا ہو گا۔ ہم ایک مرتبہ شہر کو مکمل صاف کر کے بتانے چاہتے ہیں کہ کوشش کی جائے تو شہر صاف ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی وسیم اختر ، ان کی جماعت اور بلدیاتی منتخب قیادت کے تعاون کے بغیر یہ کام ممکن نہیں اس لئے ہم مل کر کوشش کریں گے۔ہماری نیت صاف ہے اس لئے اللہ کی مدد بھی حاصل ہو گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کا تعاون رہے گا ان کی مشینری اور انفراسٹرکچر سے خاصی مدد ملے گی، 15 ہزار رضا کار، بلدیاتی اداروں، منتخب نمائندوں اور ممبران پارلیمنٹ کی مدد اور تعاون کریں گے جن کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ ہم ان رضاکاروں کو ڈسٹرکٹ کی سطح پر تقسیم کریں گے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث وفاقی حکومت سے تعاون کی درخواست کی۔ میں وفاقی وزیر علی زیدی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے خط کے جواب میں تعاون کیا میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان اختیارات اور وسائل کے ساتھ میں کراچی کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔ہمیں اب سیاست نہیں کام کرنا ہو گا اگر اس میں سیاست شامل ہوئی تو نتائج صفر ہوں گے۔گزشتہ دس برسوں میں صوبائی حکومت نے کراچی کو تباہ کیا۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ کراچی سے جمع ہونے والے ٹیکسز کی رقم کہاں جاتی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کراچی میں کچرا صاف کرنے کے چیئرمین بنے ہوئے ہیں۔سارا کچرا شہر کے نالوں اور گلیوں میں جمع ہے۔شہر کے جن اداروں پر یہ قابض ہے وہ کام کیوں نہیں کرتے یہ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔پاکستان کی سوکالڈ جمہوری جماعتوں نے کبھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جو جمہوریت کی بنیاد ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تو لوکل گورنمنٹ کے تمام اختیارات صوبائی حکومت نے اپنے پاس رکھ لئے ،جمہوریت کی مضبوطی کا تقاضا ہے کہ اختیارات تیسرے درجہ کی حکومت کو منتقل ہوں ،انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جہاں جمہوریت مضبوط اور مسائل سے پاک معاشرہ ہے وہاں تیسرے درجہ کے حکومتی ادارے مضبوط ہیں۔ ہمارے ملک میں ایسے مائنڈ سیٹ کے سیاست دان ہیں جو اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ عوام کے لئے نہ خود کام کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تین سال سے یہی بات کہہ رہا ہوں کہ ملک کی مضبوطی کے لئے اداروں کو مضبوط کرو مگر کوئی سننے والا ہی نہیں۔ مجھے سندھ حکومت کے رویہ سے مجبور ہو کر عدالت جانا پڑتا ہے۔ کے ایم سی کو کچھ وسائل ملتے بھی ہیں تو عدالت کے حکم پر انہوں نے کہا کہ بارشوں میں شہر کا برا حال تھا میری ذمہ داری صرف نالے صاف کرنا ہے وہ ایک ہفتہ قبل صاف کر دیئے تھے۔ اسی وجہ سے کوئی نالہ اوور فلو نہیں ہوا۔ میئر کراچی نے کہا کہ سڑکوں پر کچرا اور کچرے سے نالیاں چوک ہونے سے سڑکوں پر پانی کھڑا ہوا جس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔ نالوں کی صفائی کے لئے عدالت کی ہدایت پر جو پیسے دیئے گئے تھے ان کا حساب سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کے دفتر میں جمع کرا دیا ہے۔ پھر بھی کہتے ہیں حساب دو۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک اور ادارے ان سے دس سال کا حساب مانگ رہے ہیں اور یہ دوسروں کو کہہ رہے ہیں کہ حساب دو یہ شرم کا مقام ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ وفاقی حکومت اور علی زیدی کا شکر گزار ہوں کہ میری درخواست پر کراچی کی طرف توجہ دی ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر شہر کے لئے کام کرنا ہوگا یہ شہر ہم سب کا ہے اگر اس کام میں سیاست شامل ہوئی تو نتائج صفر ہوں گے لہٰذا ایک ہی سوچ ہونا چاہئے کہ شہر کو ترقی دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم سب سے بہت غلطیاں ہوئیں ان کو بھول جانے کا وقت ہے پھر سیاست کریں گے تو مسائل حل نہیں ہوسکتے آج جو جذبہ موجود ہے اسی جذبے کے ساتھ کام کریں گے تو نتائج حاصل ہوں گے۔ بحریہ ٹاؤن نے کورنگی ڈسٹرکٹ صاف کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔  
     
     
   
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard