Home  
    Mayor  
    Deputy Mayor  
    Metropolitan Commissioner  
    Departments  
    KMC Directory  
    Photo Gallery  
    Video Gallery  
       
 
 
       
    Tender Information  
    KMC Function  
    Tenders  
    Grand Auctions  
    Section 144 CR.P.C  
    Notifications  
    KMC Resolution  
       
 
 
       
    Public Notice  
    Information  
    National Holidays  
    Prayer Timings  
    Archive  
       


 
 
 
 
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ 8 سال بعد عباسی شہید اسپتال کے لئے 2 کروڑ روپے کا سامان خریدا گیا-  
     
  03-Apr-2019  
     
   
     
  میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ 8 سال بعد عباسی شہید اسپتال کے لئے 2 کروڑ روپے کا سامان خریدا گیا جو کسی بھی اسپتال کے لئے لازمی ہوتا ہے جبکہ 10 کروڑ روپے مالیت کے سامان کی خریداری کا عمل جاری ہے، کراچی آئی سی یو میں چلا گیا اس پر توجہ نہ دی گئی تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، ایڈمنسٹریٹروں نے کراچی کو تباہ کردیا اس کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لئے بڑے پیکیج کی ضرورت ہے، آکٹرائے ٹیکس سے سالانہ 7 ارب روپے کم ملتے ہیں، بحریہ ٹائون کے 460 ارب روپے کراچی کی زمین کے ہیں یہ کراچی اور ضلع ملیر کی ترقی کے لئے خرچ کئے جائیں، وزیر اعظم نے خود ایک اسپتال بنایا وہ کام کرنے میں مخلص ہیں لہٰذا ان سے اپیل ہے کہ کراچی کے اسپتالوں پر بھی توجہ دیں جہاں 8 سال میں ایک جھاڑو بھی نہیں خریدی گئی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو عباسی شہید اسپتال کے لئے 2کروڑ روپے مالیت کے خرید ے گئے سامان کو انتظامیہ کے حوالے کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن اور دیگرافسران بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کے لئے مزید 10 کروڑ روپے کا سامان خریدا جا رہا ہے ،اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جس اسپتال کے لئے 8 سال تک ایک جھاڑو بھی نہ خریدی گئی ہو اس کی حالت کیا ہوگی تاہم ہم عباسی شہید اسپتال سمیت تمام اسپتالوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بتدریج سب اسپتالوں میں بہتری آرہی ہے، انہوں نے کہا کہ آج عباسی شہید اسپتال کے ملازمین کے لئے خوشی کا دن ہے کہ 8 سال کے وقفے کے بعد ان کو وہ سامان مل رہا ہے جس کے بغیر اسپتال کو نہیں چلایا جاسکتا ، انہوں نے کہا کہ جب بھی ایم کیو ایم کی حکومت آئی ان اسپتالوں پر توجہ دی گئی مگر ایڈمنسٹریٹروں نے اس شہر کو تباہ کردیا گزشتہ تین سالوں سے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسپتالوں میں بہتری لائی جائے مگر ہر اسپتال اور ہر شعبہ تباہ ہوچکا ہے ، ان اسپتالوں کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کو کراچی کے عوام کی فلاح و ترقی سے کتنی دلچسپی تھی، میئر کراچی نے کہا کہ گورنرسندھ، وزیراعلیٰ سندھ، صدر اور وزیراعظم پاکستان تک یہ بات پہنچنی چاہئے کہ کراچی آئی سی یو میں ہے، کراچی کو آئی سی یو سے نہ نکالا گیا تو ملک کو شدید نقصان ہوگا، سارے ملک کے معاشی حالات کراچی سے بہتر ہوں گے اس شہر کی ترقی کے لئے بڑا پیکیج چاہئے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کو سالانہ 7 ارب روپے آکٹرائے ٹیکس کی مد میں کم ملتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ زیڈ او ٹی سے متعلق اجلاس بلائیں اور ڈسٹرکٹ کو ان کا حق دیا جائے اس سے صوبے کے سارے اضلاع کے عوام کو فائدہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بحریہ ٹائون سے جو 460 ارب روپے وصول کئے جا رہے ہیں وہ کراچی کی زمین کے ہیں وہ رقم کراچی پر خرچ ہونا چاہئے، عوام مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں، اگر صحت ، تعلیم اور سیکورٹی کے مسائل حل ہوجائیں تو 90فیصد سے زیادہ کرپشن ازخود ختم ہوجائے گی اور اس ملک کے 98 فیصد عوام کے مسائل حل ہوجائیں گے، انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے اپیل کی کہ کراچی کو سنبھالیں ورنہ ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، شہر میں پانی ، سیوریج، ٹرانسپورٹ، تعلیم، ماحولیاتی آلودگی سمیت بے شمار مسائل ہیں اور ان مسائل کی موجودگی میں یہ شہر اب آگے نہیں چل سکتا، شہر کی منتخب کونسل اور میئر کو 2 کروڑ روپے کی لاگت سے زیادہ منصوبہ بنانے کی اجازت نہیں، صوبائی اور وفاقی حکومت بھی توجہ نہیں دے گی تو کراچی کیسے ٹھیک ہوگا یہ تشویش ناک صورتحال ہے اس کو وزیراعظم پاکستان کی بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔  
     
     
 
News Photo Gallery
 
 
 
 
 
 
 
 
 

 
     
     

 

 

 

 

 
 
     
 

Copyright © 2011-2012 Karachi Metropolitan Corporation. All rights reserved.
The KMC will not be responsible for the content of external internet sites. / Login  / Webmail  / Webmail 2  / 1339 Executive Dashboard